LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں بھوک کا بحران: گلوبل ہنگر انڈیکس کی نئی رپورٹ جاری

News Image
رواں برس کے گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق معاشی عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان جنوبی ایشیا میں خوراک کے بدترین بحران کا شکار ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر بھی دو دہائیوں کی بہتری کے بعد بھوک کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسلام آباد میں جاری ہونے والی 2026 کے گلوبل ہنگر انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا میں بھوک اور غذائی قلت کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ اس صورتحال کی بنیادی وجوہات میں معاشی عدم استحکام، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور حالیہ موسمیاتی آفات شامل ہیں جن کی وجہ سے لاکھوں گھرانوں کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں خوراک کی صورتحال 2018 کے بعد سے مزید ابتر ہوئی ہے، جس نے ملک میں غذائی تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مشترکہ اشاریوں کے مطابق، پاکستان میں کم خوراکی کا شکار افراد کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بچوں میں طویل مدتی نشوونما کی کمی یعنی اسٹنٹنگ اور ضائع ہونے والے وزن کے مسائل بھی سنگین شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ملک میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے باعث زرعی اجناس کو بھاری نقصان پہنچا ہے، جس سے مقامی سطح پر خوراک کی رسد شدید متاثر ہوئی ہے۔ معاشی دباؤ کے باعث عام آدمی کی پہنچ سے بنیادی خوراک دور ہوتی جا رہی ہے اور کسانوں کو بھی فصلوں کی کٹائی کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں خوراک کی صورتحال تاحال 'تشویشناک' زمرے میں برقرار ہے جہاں مجموعی اسکور 23.5 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے مطابق، خطے میں غذائی عدم تحفظ کا یہ عالم ہے کہ کروڑوں افراد کو روزانہ کی بنیاد پر مناسب غذا میسر نہیں ہے۔ عالمی سطح پر بھی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے بگڑتی جا رہی ہے، جہاں تنازعات، جنگوں اور رسد کے نظام میں خلل کے باعث فرٹیلائزر اور ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ رپورٹ کے اختتام پر عالمی اداروں اور حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خوراک کی سلامتی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں اور امدادی فنڈز میں کی جانے والی کٹوتیوں کو واپس لیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر پالیسی سازی میں بہتری نہ لائی گئی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی طے نہ کی گئی، تو آنے والے دنوں میں غذائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے جس سے لاکھوں مزید افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔