World
یوگنڈا میں اسرائیلی وزیراعظم کے بھائی کا مجسمہ نصب
یوگنڈا نے 1976ء کے انتیبے ہائی جیکنگ بحران کے دوران ریسکیو آپریشن میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو کے بھائی کا مجسمہ رونقِ محفل بنایا ہے۔ اس تاریخی تقریب میں دونوں ممالک کے تعلقات اور اس واقعے کی یاد کو تازہ کیا گیا۔
یوگنڈا کی جانب سے حال ہی میں ایک ایسی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں انتیبے ریسکیو مشن کے دوران ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجی یوناتن نیتنیاہو کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ یاد رہے کہ یوناتن نیتنیاہو موجودہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو کے بھائی تھے اور وہ واحد اسرائیلی فوجی تھے جو اس تاریخی اور خطرناک ریسکیو آپریشن کے دوران جاں بحق ہوئے تھے۔ انتیبے میں پیش آنے والا یہ واقعہ تاریخ کے اہم ترین ہائی جیکنگ اور بازیابی کے مشنز میں شمار ہوتا ہے۔ سال 1976ء میں ایئر فرانس کے ایک مسافر طیارے کو اغوا کر کے یوگنڈا کے انتیبے ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا تھا جہاں طیارے میں سوار سو سے زائد اسرائیلی اور یہودی یرغمالیوں کو آزاد کرانے کے لیے اسرائیلی کمانڈوز نے ایک انتہائی جرات مندانہ آپریشن کیا تھا۔ اس آپریشن کی قیادت خود یوناتن نیتنیاہو کر رہے تھے جو اس دوران جامِ شہادت نوش کر گئے لیکن ان کی ٹیم نے تمام یرغمالیوں کو بحفاظت رہا کرا لیا تھا۔ اس مجسمے کی تنصیب کو دونوں ممالک کے درمیان تاریخی پس منظر اور سفارتی تعلقات کے تناظر میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تقریب میں دونوں اطراف سے اس واقعے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس عزم کو دہرایا گیا۔ اس موقع پر یوناتن نیتنیاہو کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر درجنوں معصوم انسانوں کی زندگیاں بچائیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس اقدام کو خاصی توجہ ملی ہے کیونکہ یہ ایک ایسے تاریخی واقعے سے جڑا ہے جو کئی دہائیوں گزرنے کے باوجود آج بھی عسکری تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔