Politics
بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی پر خیبر پختونخوا حکومت سے متعلق شدید تنقید
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف پر خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف سیاسی خودکش حملے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کے نئے دور کی پیشکش بھی کی ہے۔
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے خیبر پختونخوا میں اٹھائے جانے والے اقدامات دراصل صوبائی حکومت پر ایک سیاسی خودکش حملے کے مترادف ہیں، جس سے صوبے کے سیاسی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وفاقی سطح پر جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔
اپنے خطاب کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک بار پھر تمام اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کی نئی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ملکی حالات اور بالخصوص اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی مکالمہ ناگزیر ہے کیونکہ محاذ آرائی کی سیاست سے جمہوریت اور عوام دونوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کو ترجیح دیں اور پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر باضابطہ بات چیت کے ذریعے تمام اہم قومی امور پر اتفاق رائے پیدا کریں۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر کی طرف سے خیبر پختونخوا میں ہنگامی صورتحال سے متعلق ایک قرارداد بھی ایوان میں پیش کی گئی، جس پر اراکین اسمبلی کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کا موقف ہے کہ صوبے کے امن و امان اور انتظامی امور کو بہتر چلانے کے لیے آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہ کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مذاکرات کی یہ پیشکش اور پی ٹی آئی پر تنقید آنے والے دنوں میں ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ دونوں بڑی سیاسی قوتیں صوبائی اور وفاقی محاذ پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔