LIVE
Loading Breaking News...

کے پی ایمرجنسی نفاذ پر سینیٹ میں ہنگامہ، اپوزیشن کی شدید تنقید

News Image
قومی اسمبلی اور سینیٹ کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق نے اپوزیشن جماعتوں کو برہم کر دیا۔ اپوزیشن سینیٹرز نے حکومتی اقدام کو آئین اور جمہوری اقدار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی قرارداد کی منظوری کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس فیصلے پر اپوزیشن سینیٹرز کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور انہوں نے حکومتی اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جمہوری روایات کے منافی قرار دیا ہے۔ اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ صوبائی خود مختاری پر اس قسم کے حملے ملک میں سیاسی بحران کو مزید گہرا کرنے کا باعث بنیں گے۔ دوسری جانب، حکومتی مشیروں اور وزراء بشمول رানা ثناء اللہ نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر یہ انتہائی قدم اٹھانا ناگزیر ہو چکا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، جس کے لیے وفاق کو مجبوری میں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ حکومتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے جاتے تو پاکستان کو مزید سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے حکومت کے ان دلائل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمرجنسی کا نفاذ دراصل سیاسی مقاصد کے حصول اور صوبائی حکومت کو دیوار سے لگانے کی ایک سوچی سمچی سازش ہے۔ سینیٹ کے اجلاس کے دوران اپوزیشن سینیٹرز نے ایوان میں شدید نعرے بازی کی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے بعد وفاق اور صوبہ خیبر پختونخوا کے درمیان سیاسی محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے ملک میں پہلے سے موجود سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے مزید طویل ہونے کا خدشہ ہے۔