World
یورپی یونین کا سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے مؤقف کی تائید
برسلز میں منعقدہ ایک اہم گورننس اجلاس کے دوران یورپی یونین کے قانون سازوں نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔ اس موقع پر پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ آبی معاہدے کے تقدس کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
برسلز میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی گورننس اجلاس کے دوران یورپی یونین کے قانون سازوں نے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی کھل کر تائید کی ہے۔ اجلاس کے دوران خطے میں پانی کی قلت اور آبی وسائل سے جڑے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جہاں یورپی قانون سازوں نے پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری پر زور دیا۔
اس اہم موقع پر پاکستانی نمائندوں اور سفارتی حکام نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تمام شقوں کو من و عن برقرار رکھنے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ آبی معاہدوں میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ معطلی یا تبدیلی خطے کے کروڑوں افراد کی غذائی سلامتی اور زرعی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ملک کو پہلے ہی شدید موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ماہرین اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کو اس وقت تقریباً بائیس فیصد تک پانی کے بحران کا سامنا ہے، جس نے ملکی زرعی شعبے اور خاص طور پر ربیع کی فصلوں پر گہرے بادل کھڑے کر دیے ہیں۔ گندم کی بروقت کاشت اور قیمتوں کے حوالے سے تاخیر نے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جو پہلے ہی پانی کی شدید قلت اور بین الاقوامی آبی معاہدوں میں تعطل کے منفی اثرات بھگت رہے ہیں۔
حکومتی حلقوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کے اس گھمبیر بحران سے نمٹنے کے لیے نہ صرف ملکی سطح پر مؤثر واٹر کنزرویشن یعنی آبی بچت کی پالیسیاں نافذ کرنے کی فوری ضرورت ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سفارتی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔ برسلز میں یورپی یونین کی حمایت کو پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں آبی حقوق کے تحفظ کے لیے سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔