LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف 'مدر آف آل بمب' استعمال کرنے کا غور

News Image
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون ایران کے خلاف ممکنہ فضائی حملوں میں انتہائی طاقتور بم کے استعمال کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
امریکی فوج نے ایران کے خلاف مستقبل کے ممکنہ فضائی حملوں میں دنیا کے طاقتور ترین روایتی ہتھیاروں میں سے ایک یعنی 'مدر آف آل بمب' (MOAB) کے استعمال کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی عسکری حکام اس اسٹریٹجک آپقشن کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اگر ضرورت پڑی تو تہران کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کمی کے کوئی واضح آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں اور واشنگٹن اپنے عسکری آپشنز کو ہمیشہ کی طرح میز پر رکھے ہوئے ہے۔ 'مدر آف آل بمب' جسے باضابطہ طور پر جی بی یو فورٹی تھری/بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ کہا جاتا ہے، اپنی تخریب کاری اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت کے حوالے سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ اس بم کا بنیادی مقصد انتہائی مضبوط اور زمین میں گہرے دفن دشمن کے عسکری ٹھکانوں، بنکرز اور تنصیبات کو نیست و نابود کرنا ہے۔ امریکی فوج کے اندر اس ہتھیار کو ممکنہ اہداف کے خلاف استعمال کرنے کی بازگشت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ واشنگٹن ایران کے عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکنہ اور سخت ترین لائحہ عمل پر غور کر رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اس قسم کے انتہائی مہلک اور بڑے روایتی ہتھیار کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے خطے پر انتہائی گہرے اور خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا بلکہ خلیجی خطے میں پہلے سے موجود امن کی نازک صورتحال بھی شدید داؤ پر لگ جائے گی۔ عالمی سطح پر اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سفارتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاحال پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس مخصوص رپورٹ پر کوئی حتمی اور باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم امریکی عسکری ذرائع وقتاً فوقتاً ایسے مختلف اسٹریٹجک منصوبوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھی جا سکے۔ بین الاقوامی برادری اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے۔