World
وزیراعظم کا مکہ معاہدہ، ریاض پر حوثی حملے اور سعودی عرب کی سکیورٹی صورتحال
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور ائیرپورٹ پر حوثی باغیوں کے حالیہ میزائل حملوں کے بعد سکیورٹی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ معاہدے کے تحت خطے میں امن اور دفاعی تعاون کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کا اعادہ کیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور وہاں کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی باغیوں کی جانب سے حالیہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان تشویشناک سکیورٹی خدشات کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مکہ معاہدے کے تحت طے پانے والے دفاعی اور علاقائی تعاون کے عزم کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔ ذرائع کے مطابق مکہ الائنس کے سیکرٹری جنرل نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے باہمی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں خطے کے بدلتے ہوئے حالات اور امن و امان کی صورتحال پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع ائیرپورٹ کو گزشتہ دو دنوں میں دوسرے حوثی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان حملوں کی زد میں آنے والے زائرین اور عام شہریوں کی سکیورٹی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی مشرق وسطیٰ کی اس نئی جنگی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ پاکستان نے ہر مشکل وقت کی طرح اس بحران میں بھی سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنے برادر ملک سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی قیادت کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔