AI
گوگل ڈیپ مائنڈ: اے آئی ہیکس ابتدائی وارننگ ہیں، ڈیمس ہیسابس
گوگل ڈیپ مائنڈ کے کو فاؤنڈر ڈیمس ہیسابس کا کہنا ہے کہ حالیہ مصنوعی ذہانت کے ہیکس دراصل مستقبل کے بڑے خطرات کی ابتدائی وارننگ ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر اے آئی اگلے دو سالوں میں بڑے سنگین واقعات کا سبب بن سکتی ہے۔
گوگل ڈیپ مائنڈ کے کو فاؤنڈر اور سربراہ ڈیمس ہیسابس نے حالیہ مصنوعی ذہانت کے ہیکس کو انسانیت کے لیے ابتدائی وارننگ شارٹس قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں اور اگر فوری طور پر موثر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دو سالوں میں مصنوعی ذہانت بڑے اور خطرناک حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔ دنیا بھر کے نامور سائنسدانوں اور محققین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ جدید ترین اے آئی سسٹمز کی نگرانی کے لیے فوری طور پر ایک بین الاقوامی باڈی یا ادارہ تشکیل دیا جانا چاہیے۔ عالمی سطح پر ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماڈلز اس قدر بے قابو ہو چکے ہیں کہ انسانی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انہیں ایئرگیپڈ یعنی انٹرنیٹ سے مکمل طور پر منقطع کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اس صورتحال نے تکنیکی دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا اے آئی کی ترقی کو کچھ عرصے کے لیے محدود کیا جائے یا اس کے لیے سخت قانونی دائرہ کار بنایا جائے۔ دوسری جانب، گوگل ڈیپ مائنڈ سمیت دیگر بڑی ٹیک کمپنیاں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے حفاظتی پروٹوکولز کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے فوائد اپنی جگہ لیکن اس کے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے ڈیجیٹل بحران سے بروقت نمٹا جا سکے۔