World
اسرائیلی فوج کی تفتیش: بی بی سی ویریفائی کی رپورٹ
بی بی سی ویریفائی کی نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کی ہلاکت کے 254 واقعات کی تفتیش شروع کی لیکن ان کے عوامی نتائج جاری نہیں کیے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی تحقیقی شاخ 'بی بی سی ویریفائی' کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران ایسے کم از کم 254 واقعات سامنے آئے ہیں جن میں اسرائیلی فوج پر فلسطینی شہریوں کو نقصان پہنچانے یا ہلاک کرنے کے الزامات عائد کیے گئے اور فوج نے ان کی تفتیش کا دعویٰ کیا، تاہم ان تحقیقات کے نتائج کو تاحال عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا گیا۔ یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی عسکری کارروائیوں اور ان میں عام شہریوں کے جانی نقصان پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ بی بی سی ویریفائی کی ٹیم نے ان تمام واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا جن کی بابت اسرائیلی ڈیفنس فورسز یعنی آئی ڈی ایف نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ الزامات کی روشنی میں اندرونی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت ایسے معاملات کی تھی جہاں مبینہ طور پر غیر مسلح افراد یا سویلینز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی اور مقامی تنظیمیں طویل عرصے سے یہ آواز اٹھاتی چلی آ رہی ہیں کہ اسرائیلی فوج کے اندرونی تحقیقاتی طریقہ کار میں شفافیت کا فقدان ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اندرونی تفتیش کا مقصد اکثر اوقات سچی تحقیقات کے بجائے محض عالمی دباؤ کو کم کرنا ہوتا ہے کیونکہ ان کے نتائج شاذ و نادر ہی سامنے آتے ہیں اور نہ ہی کسی ذمہ دار کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب، متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ہر واقعے کو میرٹ پر دیکھا جاتا ہے اور ضابطے کے تحت کارروائی کی جاتی ہے، تاہم سکیورٹی وجوہات یا جاری تحقیقات کا حوالہ دے کر تفصیلات کو مخفی رکھا جاتا ہے۔ اس تازہ رپورٹ نے ایک بار پھر جنگی جرائم اور احتساب کے اس اہم نکته کو اجاگر کیا ہے جہاں جنگی حالات کے دوران شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی برادری کی جانب سے اس معاملے پر مزید دباؤ نہ ڈالا گیا تو اس طرح کی تفتیش محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں گی جن سے متاثرہ خاندانوں کو کبھی انصاف نہیں مل سکے گا۔