World
مقبوضہ کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ تجویز پر ہنگامہ اور سیاسی تنقید
مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد کے لیے جمعہ کے خطبے یکساں کرنے کی تجویز پر سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قدم خطے میں مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے پر براہ راست قدغن لگانے کے مترادف ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام مساجد کے اندر جمعہ کے خطبے یکساں کرنے سے متعلق سامنے آنے والی ایک نئی تجویز پر وادی بھر میں شدید غم و غصہ اور سیاسی و مذہبی حلقوں کی طرف سے تند و تیز ردعمل پایا جاتا ہے۔ اس تنازع نے ایک بار پھر خطے میں مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔
مختلف سیاسی رہنماؤں اور مذہبی تنظیموں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کشمیری عوام کی مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے کے آئینی حقوق کو مزید سلب کرنے کے درپے ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ مساجد کے منبروں کو کنٹرول کرنے کی یہ کوشش خطے کی مذہبی روایات میں براہِ راست مداخلت ہے جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کے حکومتی اقدامات سے کشمیری عوام کے دلوں میں پہلے سے موجود احساسِ محرومی اور غصے میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مساجد کا انتظام اور وہاں دیے جانے والے خطبے مقامی روایات اور مذہبی علماء کی زیر نگرانی ہونے چاہئیں، اور اس طرح کے انتظامی فیصلوں کا مقصد وادی کے تشخص کو نقصان پہنچانا ہے۔
اس صورتحال نے مقبوضہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ مختلف طبقات کی جانب سے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے کے نفاذ سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور اس کے خلاف مزاحمت میں شدت آسکتی ہے۔