World
اسرائیل کے انتخابات اور افریقی ممالک کا ردعمل
مراکش سے جنوبی افریقہ تک افریقی ممالک میں اسرائیل کے انتخابات کا بڑی شدت سے مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ یہ انتخابات اس بات کا امتحان ہوں گے کہ آیا غزہ جنگ کے بعد افریقی ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات برقرار رہ سکتے ہیں۔
مراکش سے لے کر جنوبی افریقہ تک، افریقہ کے طول و عرض میں اسرائیل کے ہونے والے انتخابات پر انتہائی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں اور سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ انتخابات اس بات کا فیصلہ کن امتحان ثابت ہوں گے کہ آیا اسرائیل کے افریقی ممالک کے ساتھ دیرینہ اور نئے تعلقات غزہ کی جنگ کے اثرات اور سفارتی دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ حالیہ تنازعات نے خطے میں اسرائیل کی پوزیشن کو متنازع بنا دیا ہے، جس کے بعد افریقی دارالحکومتوں میں ہونے والی تبدیلیاں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
دوسری جانب، جنوبی افریقہ جیسے ممالک شروع سے ہی فلسطینی کاز کے حامی رہے ہیں اور انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس کے برعکس، شمالی افریقہ کے کچھ ممالک اور براعظم کے دیگر حصوں میں سفارتی تعلقات کی بحالی اور اقتصادی تعاون کے معاہدے بھی طے پائے تھے۔ اب جب کہ ووٹرز پولنگ کی طرف جا رہے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئی سیاسی قیادت خارجہ پالیسی کے محاذ پر کس قسم کے چیلنجز کا سامنا کرتی ہے اور افریقی خطے کے ساتھ اس کے توازن کا کیا معیار رہتا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ غزہ کی جنگ کے تناظر میں افریقی رائے عامہ میں اسرائیل کے خلاف کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افریقی حکومتیں عوامی جذبات اور سفارتی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آنے والے انتخابات کے نتائج نہ صرف اسرائیل کی اندرونی سیاست پر اثر انداز ہوں گے بلکہ افریقہ کے ساتھ اس کے مستقبل کے سفارتی تعلقات کی سمت کا بھی تعین کریں گے۔