World
جی ٹوئنٹی اجلاس: ایران جنگ اور عالمی معیشت پر اثرات
تھائی لینڈ میں منعقدہ جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں دنیا بھر کے مالیاتی حکام نے ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں اور معاشی بحران پر غور کیا۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد عالمی معیشت کو درپیش غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرنا ہے۔
تھائی لینڈ میں جی ٹوئنٹی کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں خطے میں جاری کشیدگی اور ایران جنگ کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے عالمی مالیاتی رہنماؤں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حالیہ تنازعات کی وجہ سے نہ صرف توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں معاشی بحالی کا عمل بھی سست پڑنے کا خدشہ ہے۔ حکام نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ سپلائی چین کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران شرکا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خاص طور پر ایران کے ساتھ کشیدگی کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ مرکزی بینکوں کے صدور نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مالیاتی پالیسیوں کو مزید سخت کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تاکہ عالمی منڈی میں استحکام لایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، اگر اس تنازع کو جلد سفارتی ذرائع سے حل نہ کیا گیا تو عالمی اقتصادی ترقی کے اہداف بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ جی ٹوئنٹی کے پلیٹ فارم پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اس بحران سے بچانے کے لیے فوری مالیاتی معاونت اور پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے اختتام پر تمام رکن ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عالمی معیشت کو کسی بھی بڑے دھچکے سے بچانے کے لیے ہر ممکنہ اقتصادی اقدام اٹھائیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں گے۔