LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی بچے، 2023 سے اب تک 2 ہزار گرفتار

News Image
ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2023 سے اب تک اسرائیل نے دو ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے۔ اس وقت بھی کم از کم ساڑھے تین سو فلسطینی بچے اسرائیلی جیلوں میں انتہائی سخت اور غیر انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایک نئی انسانی حقوق کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2023 کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیلی فورسز نے دو ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان گرفتاریوں کا سلسلہ ایسے وقت میں جاری ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور تمام عمر کے فلسطینی بالخصوص کم عمر بچے اس تنازع کا نشانہ بن رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان گرفتار شدہ بچوں میں سے بڑی تعداد کو بغیر کسی باقاعدہ مقدمے یا ٹرائل کے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے، جو کہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ موجودہ صورتحال کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ اس وقت بھی کم از کم 350 فلسطینی بچے اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں انتہائی سخت، کٹھن اور غیر انسانی حالات میں قید ہیں۔ ان بچوں کو بنیادی حقوق، مناسب طبی امداد اور تعلیمی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ اہل خانہ سے ملاقاتوں پر بھی کڈی پابندیاں عائد ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ بچوں کے خلاف اس قسم کے جبری اقدامات اور صوابدیدی حراستیں چوتھے جنیوا کنونشن اور بچوں کے حقوق کے عالمی کنونشن کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ فلسطینی فلاحی اور حقوقِ اطفال کی تنظیمیں اس المیے پر مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اسرائیلی حکام پر دباؤ ڈالے تاکہ ان نابالغ قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اس کے علاوہ، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے بھی یہ پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی بچوں کے حالاتِ زندگی کا آزادانہ جائزہ لیں اور وہاں جاری مبینہ زیادتیوں کا فوری نوٹس لیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ کم عمر بچوں کو بھی کس قدر سنگین حفاظتی اور قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنان اور ادارے اس ظلم کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں اور مقبوضہ فلسطین کے بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔