LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز

News Image
سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران متعدد دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان کامیاب کارروائیوں میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ریاستی میڈیا اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق، صوبے کے مختلف حصوں میں انٹیلی جنس بیسڈ اور جوابی کارروائیوں کے دوران متعدد خطرناک عناصر کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد صوبے میں امن و امان کی فضا کو بحال رکھنا اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، بلوچستان کے علاقے واشک میں سکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران پانچ دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ اس کے علاوہ مستونگ میں ہونے والے ایک الگ آپریشن میں بھی دو عسکریت پسند مارے گئے جبکہ کارروائی کے دوران ایک سو چار افغان شہریوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا جو بغیر قانونی دستاویزات کے مقیم تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے تاکہ قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایک اور اہم کارروائی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے بارکھان کے علاقے میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر چھاپہ مارا، جہاں بھارتی پشت پناہی حاصل کرنے والے دس دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست ملک میں دہشتگردی کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں بھی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے چار کمانڈروں سمیت نو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جو سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام کارروائیاں ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔ عوام اور سکیورٹی ادارے ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بلوچستان اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امن کی بحالی کے لیے ان آپریشنز کو سراہا جا رہا ہے جبکہ عسکری قیادت نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کے امن کو خراب کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔