Politics
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، کے پی میں ایمرجنسی نافذ
اسلام آباد میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے جس میں قومی اسمبلی اور سینٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کر دی ہے۔ اجلاس کے دوران ملکی سیاسی صورتحال اور صوبائی امور پر تفصیلی بحث کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ کا ایک اہم اور ہنگامی مشترکہ اجلاس جاری ہے جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا میں نافذ کی جانے والی ایمرجنسی اور گورنر راج پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس کی کارروائی کے دوران قومی اسمبلی اور سینٹ کے اراکین نے مرکزی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تائید میں اہم قراردادیں کثرت رائے سے منظور کر لیں۔ پارلیمنٹ کے اس مشترکہ اجلاس میں دونوں ایوانوں کے ارکان کی بڑی تعداد موجود ہے جو اس آئینی اور سیاسی پیشرفت پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالی دنوں میں خیبر پختونخوا کے سیاسی حالات اور تناؤ کے پیش نظر وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا تھا جس کی اب پارلیمنٹ کے اس مشترکہ فورم سے باقاعدہ توثیق کرائی جا رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں ایک طرف حکومتی اتحادی اسے امن و امان اور آئینی تقاضوں کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں، وہیں پارلیمانی مبصرین کے نزدیک یہ قدم مرکز اور صوبے کے درمیان محاذ آرائی کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس معاملے پر کھل کر بحث کی اور اپنے مطالبات پیش کیے۔ پارلیمنٹ کی اس کارروائی کو ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے صوبائی اور وفاقی تعلقات کی نوعیت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اجلاس کے اختتام پر ایک جامع اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔