World
اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کا خطے کی صورتحال پر رابطہ
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکی کے ہم منصب کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ اور غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اسلام آباد: پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں خطے کی حالیہ اور انتہائی سنگین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے خطے کے امن پر پڑنے والے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور عالمی برادری بھی صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھی ہے۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور تمام تصفیہ طلب امور کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے ترکی کے وزیر خارجہ کے ساتھ غزہ کے نہتے عوام کی ابتر انسانی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معصوم شہریوں کی جانوں کا مزید ضیاع روکا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مسلم امہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے قریبی رابطے میں رہیں گے۔
علاوه ازیں، یہ ٹیلیفونک رابطے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب پاکستان نے او آئی سی کے آئندہ ہنگامی اجلاس یا کانفرنس سے قبل مصر اور ترکی سمیت اہم مسلم ممالک کے ساتھ مشاورت کا عمل تیز کر دیا ہے۔ پاکستان اور مصر نے پہلے ہی خطے کے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک کا یہ مؤقف رہا ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے انسانی مصائب میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
سفارتی حلقوں کی جانب سے پاکستان، ترکی اور مصر کے ان رابطوں کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مسلم دنیا کو ایک موثر اور متفقہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری اس جنگی جنون کو روکا جا سکے۔ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور دوست ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل پر کام کر رہا ہے۔