World
امریکہ اور ایران کشیدگی، مدر آف آل بمب کے استعمال پر غور
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ نے مبینہ طور پر 'مدر آف آل بمب' کے ممکنہ استعمال پر غور شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی قیادت نے بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے ہر صورت لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری شدید کشیدگی میں ایک نیا اور خطرناک موڑ اس وقت آیا جب اطلاعات کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے انتہائی طاقتور ہتھیار 'مدر آف آل بمب' کے استعمال کے متبادل پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں جنگ کے خطرات کو مزید بڑھا رہی ہے اور عالمی برادری کی توجہ اس نازک ترین موڑ پر مرکوز ہو چکی ہے۔ اس ممکنہ عسکری آپشن پر غور کرنے کی اطلاعات نے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بھی کھلبلی مچا دی ہے کیونکہ اس طرح کے اقدام کے خطے پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی حکام اور فوجی قیادت نے ان تمام دھمکیوں اور دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ تہران کسی بھی قسم کی جارحیت کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گا۔ ایرانی عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں اور قوم اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے آخری سانس تک لڑے گی۔ تہران کا مؤقف ہے کہ بیرونی دباؤ اور دھمکیاں ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں اور وہ اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ دریں اثنا، عالمی رہنماؤں نے دونوں فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی اور همہ گیر جنگ سے بچایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کم نہ کی گئی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سفارتی سطح پر تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوششیں جاری رکھی جا رہی ہیں تاکہ دنیا کو ایک اور تباہ کن جنگ کے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔