World
آبِ ہرمز کے قریب دو بحری جہاز پراجیکٹائل حملے سے تباہ
آبِ ہرمز کے قریب نامعلوم پراجیکٹائل حملوں کی زد میں آنے کے بعد دو بحری جہاز ڈوب گئے ہیں، جس سے خطے میں تجارتی جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سکیورٹی خدات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق آبِ ہرمز کے حساس سمندری علاقے میں پیش آنے والے ایک پرتشدد واقعے میں دو کارگو بحری جہاز پراجیکٹائل لگنے کے بعد غرقاب ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اس خطے میں بحری جہازوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ سنگاپور کے حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایک کنٹینر جہاز کو پراجیکٹائل کا نشانہ بنایا گیا جو بعد میں سمندر میں ڈوب گیا۔ حملوں کے اس نئے سلسلے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور دنیا بھر کے بحری جہازوں کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبِ ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شامل ہے جہاں سے تیل کی رسد کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس قسم کے حملے نہ صرف جہاز رانی کے عمل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ واقعہ کے بعد عالمی سطح پر شپنگ کمپنیوں نے اپنے بحری جہازوں کی سکیورٹی کو انتہائی سخت کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ علاقائی اور عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سمندری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔