Business
امریکہ میں مہنگائی اور فیڈرل ریزرو کے خدشات سے چینی اسٹاک مارکیٹ میں مندی
امریکہ میں مہنگائی کے تازہ اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس صورتحال کے اثرات سے چینی اور ہانگ کانگ کے حصص بازاروں میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکہ میں مہنگائی کی شرح میں غیر متوقع اضافے کے بعد پیدا ہونے والے خدشات کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ ایشیائی مارکیٹوں پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جمعرات کے روز مین لینڈ چائنا اور ہانگ کانگ کے حصص بازاروں میں نمایاں مندی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کی جانب سے مالیاتی پالیسی کو مزید سخت کرنے کا خوف ہے۔ سرمایہ کاروں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں پر پڑے گا۔
رپورٹس کے مطابق، شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں 1.61 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی اور بازار منفی زون میں بند ہوا۔ اس گراوٹ کی قیادت خصوصاً ٹیکنالوجی اور دیگر اہم سیکٹرز نے کی، جہاں سرمایہ کاروں نے اپنے اثاثے فروخت کرنے کو ترجیح دی۔ چینی شیئرز میں ہونے والی اس کمی نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ امریکی معیشت کے اشاریے اور امریکی فیڈرل ریزرو کے فیصلے کس قدر گہرے اثرات دنیا بھر کے مالیاتی مراکز پر مرتب کرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک امریکہ میں مہنگائی کا دباؤ برقرار رہتا ہے، عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں اسی قسم کے اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب، ہانگ کانگ کا مارکیٹ بھی اس منفی رجحان سے محفوظ نہ رہ سکا اور وہاں بھی سرمایہ کاری کے لحاظ سے دباؤ دیکھا گیا۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی مارکیٹوں میں اس وقت عدم استحکام کی فضا قائم ہے کیونکہ سرمایہ کار محتاط رویہ اپنا رہے ہیں۔ چینی معیشت کے لیے یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملکی سطح پر بھی اقتصادی بحالی کے عمل کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکی مہنگائی کے ان تازہ اعداد و شمار نے عالمی منڈیوں کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں، اور آنے والے دنوں میں فیڈرل ریزرو کے اگلے اقدامات پر تمام معاشی ماہرین کی نظریں مرکوز رہیں گی۔