Technology
اسرائیلی فرم کا آن لائن اشتہارات کے ذریعے جاسوسی آپریشن کا انکشاف
محققین کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ایک اسرائیلی فرم نے اشتہارات کے ذریعے دنیا بھر میں جاسوسی کا ایک وسیع نیٹ ورک چلایا۔ اس خطرناک سائبر حملے کا نشانہ صحافیوں اور اہم اداروں کو بنایا گیا۔
ماہرین اور محققین کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین اور چونکا دینے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک اسرائیلی فرم نے آن لائن اشتہارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک بہت بڑا جاسوسی کا آپریشن چلایا ہے۔ اس غیر معمولی سائبر حملے میں ٹارگٹڈ اشتہارات کو زیرو کلک مرسنری اسپائی ویئر کی فراہمی کے لیے ایک پائپ لائن کے طور پر استعمال کیا گیا، جس سے دنیا بھر میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں شامل فرم نے عام صارفین کے روزمرہ کے اشتہارات کو ہتھیار بنایا اور مختلف ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز پر اشتہارات کے ذریعے میلویئر کو متاثرہ ڈیوائسز میں داخل کیا۔ اس سے نہ صرف عام صارفین بلکہ صحافیوں اور معروف میڈیا اداروں جیسے کہ الجزیرہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ زیرو کلک اسپائی ویئر کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اسے صارف کی کسی بھی قسم کی مداخلت یا کلک کے بغیر ہی ہدف کے فون یا کمپیوٹر میں انسٹال کیا جا سکتا ہے، جو سیکیورٹی کے نظام کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
سائبر سیکیورٹی ریسرچ تنظیم 'سٹیزن لیب' اور دیگر ممتاز خبر رساں اداروں کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ نیٹ ورکس کس طرح جاسوسی اور نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس انکشاف نے دنیا بھر میں حکومتوں، تکنیکی ماہرین اور پرائیویسی کے حامیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملے دفاعی ڈھانچے کو کمزور کرتے ہیں اور نجی زندگی کے تحفظ پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔
مستقبل میں اس طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سائبر سیکیورٹی کی صنعت کو مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ آن لائن اشتہارات کے نظام میں موجود سقم کو دور کرنے کے لیے عالمی سطح پر ضابطہ اخلاق کی تشکیل پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ اس قسم کے غیر قانونی جاسوسی نیٹ ورکس کو روکا جا سکے اور صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔