World
ساؤدی ولی عہد کا ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ، ایران سے مذاکرات کی اپیل
ساؤدی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیں۔ یہ بات چیت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران کو پہلے دھمکیاں دی گئی تھیں اور بعد میں کچھ حملے روکے گئے۔
ساؤدی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور خاص طور پر امریکہ اور ایران کے تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس گفتگو کے دوران سعودی قیادت کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ واشنگتن اور تہران کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عسکری اقدامات کے بجائے سفارت کاری اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جائیں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کا پارہ کافی بلند رہا ہے اور عالمی سطح پر امن کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے اس سے قبل ایران کے خلاف غیر معمولی طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دی گئی تھیں، تاہم بعد ازاں کچھ مبینہ حملوں کو روکنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ عالمی سیاسی مبصرین کے مطابق، ریاض کی جانب سے اس سفارتی مداخلت کا مقصد خطے میں ایک نئی جنگ کے امکانات کو معدوم کرنا ہے، کیونکہ کسی بھی جنگ کی صورت میں نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور باہمی تنازعات کو میز پر بیٹھ کر حل کرنا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔ سفارتی حلقوں میں سعودی ولی عہد کے اس مشورے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے نو منتخب امریکی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس رابطے کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین تناؤ میں کچھ کمی آ سکتی ہے اور فریقین کسی پائیدار حل کی طرف بڑھنے کے لیے رضامند ہو سکتے ہیں۔