World
روس اور یوکرین کشیدگی: توانائی تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ تازہ ترین روسی حملوں کے بعد توانائی کے مقامات پر حملوں پر عارضی وقفہ ختم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب روس نے یوکرین پر ایک تیل صاف کرنے والے کارخانے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
ماسکو اور کییف کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جب روسی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین نے ان کے ایک تیل صاف کرنے والے کارخانے کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے جو عارضی وقفہ کیا گیا تھا، وہ اب ختم ہو چکا ہے۔ صدر زیلنسکی کے مطابق یہ فیصلہ روس کی جانب سے حالیہ اور تازہ ترین حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ نشانہ بنانے کے اس عزم سے جنگ کے ایک انتہائی شدید اور تباہ کن مرحلے میں داخل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی اس طرح کے حملے دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے شدید نوعیت کے بحران کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ پاور پلانٹس اور ریفائنریز کو نقصان پہنچنے سے بجلی اور تیل کی رسد بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مبصرین اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے بجائے اس میں مزید شدت آتی جا رہی ہے۔