LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی: ٹرمپ کے آئندہ فوجی آپشنز کا جائزہ

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے حملوں کے امکان کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ تجزیہ کار اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ مستقبل میں کیا حکمت عملی اپنائیں گے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری طویل سفارتی و سیاسی تعطل کے تناظر میں بین الاقوامی امور کے ماہرین اور دفاعی تجزیہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا آنے والے دنوں میں امریکہ کی طرف سے کیا اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ امریکی قیادت نے فی الحال مڈ ٹرم انتخابات سے قبل کسی بھی قسم کے بڑے فوجی حملے کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے، تاہم صورتحال بدستور کشیدہ چلی آ رہی ہے۔ اس تناظر میں مختلف سیاسی اور عسکری پہلوؤں پر گہرے مباحثے جاری ہیں تاکہ خطے کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طویل کھینچ تان کے دوران دونوں ممالک کے پاس مختلف نوعیت کے تزویراتی آپشنز موجود ہیں۔ ایک طرف جہاں سفارتی سطح پر دباؤ بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، وہیں دوسری طرف عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی قسم کے عجلت میں کیے گئے اقدام کے نتائج خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ معاشی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کا ہدف تہران پر دباؤ برقرار رکھنا ہے تاکہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے مؤقف پر نظر ثانی کرے، لیکن تاحال اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ دوسری جانب واشنگٹن میں پالیسی ساز اس مخمصے کا شکار ہیں کہ عسکری آپشنز کے استعمال کی صورت میں اس کی قیمت کیا چکانی پڑ سکتی ہے۔ تیل کی ترسیل کے اہم راستوں، بالخصوص آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹیں اور خطے میں موجود امریکی مفادات اور اتحادیوں پر حملوں کے خطرات ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی بڑی کارروائی سے پہلے گہرے انہماک کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین کا خیال ہے کہ فی الحال بظاہر براہ راست جنگی اقدام کے بجائے زیادہ تر انٹیلی جنس بیسڈ اور اقتصادی دباؤ کی حکمت عملی کو ہی ترجیح دی جائے گی۔ آئندہ آنے والے ہفتے اس بات کا فیصلہ کرنے میں انتہائی اہم ہوں گے کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔ جب تک فریقین کے درمیان کوئی موثر گفت و شنید کا دروازہ نہیں کھلتا، تب تک یہ ڈیڈ لاک برقرار رہنے کا اندیشہ ہے۔ دنیا بھر کی نگاہیں اب واشنگٹن کے اگلے سیاسی اور عسکری فیصلوں پر مرکوز ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ مشرق وسطیٰ کی اس نازک صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے۔