World
ٹرمپ کا فورٹ হুড قاتل کی پھانسی کی لائیو اسٹریمنگ منسوخ کرنے کا اعلان
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ হুڈ کے حملے میں ملوث مجرم کی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو نشریات کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ یہ قدم زیادہ تر امریکی شہریوں کی مخالفت اور ذاتی تحفظات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ হুড کے واقعے میں ملوث مجرم کی فوجی سزائے موت کو براہ راست (لائیو) نشر کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ اس معاملے پر میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے نجی طور پر اس نشریات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ واشنگٹن پوسٹ اور رائٹرز سمیت دیگر اہم ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ تقریباً 80 فیصد امریکی عوام اس قسم کے المناک اور سنسنی خیز واقعات کی لائیو اسٹریمنگ کے سخت خلاف تھے۔ عوامی دباؤ اور اخلاقی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تنازع نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا تھا۔
واضح رہے کہ فورٹ হুڈ کا یہ واقعہ امریکی عسکری تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شامل ہے جہاں حملہ آور نے اندھا دھند فائرنگ کر کے متعدد فوجی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس مجرم کو عدالت کی جانب سے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت سنائی گئی تھی، جسے اب خفیہ یا معمول کے مطابق فوجی پروٹوکول کے تحت انجام دیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر اس سزائے موت کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر براہ راست نشر کرنے کی تجاویز زیر غور تھیں تاکہ اسے عوامی عبرت کا نشان بنایا جا سکے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور عام شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات سے معاشرے میں تشدد کے رجحانات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور قانون کے نفاذ کے روایتی طریقوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکی معاشرے میں اس فیصلے کی منسوخی پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے جہاں ایک طبقہ اسے عدالتی وقار اور اخلاقیات کی جیت قرار دے رہا ہے، وہیں کچھ حلقے اس پر اپنے تحفظات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ بہرحال، ٹرمپ کی جانب سے اس لائیو اسٹریمنگ کی منسوخی نے اس حساس بحث کو فی الحال ختم کر دیا ہے کہ آیا ریاست کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کو میڈیا کی زینت بنانا چاہیے یا نہیں۔