World
ندال حسن کی سزائے موت کی لائیو نشریات منسوخ، ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ হুڈ کے حملہ آور ندال حسن کی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی براہ راست نشریات منسوخ کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ بعض افراد اس خونی عمل کو براہ راست دیکھنے سے گریز کرنا چاہیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ হুڈ کے حملہ آور ندال حسن کی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو سٹریمنگ کا فیصلہ منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ امریکی فوج کی تاریخ میں ساٹھ سال سے زائد عرصے میں ہونے والی پہلی فوجی پھانسی بننے جا رہی تھی۔ اس خبر نے عالمی اور ملکی سطح پر کافی توجہ حاصل کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ کچھ لوگ اس ہولناک اور سنسنی خیز عمل کو براہ راست دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہر ایک کے لیے اس طرح کی خونی مناظر کو سکرین پر دیکھنا مناسب نہیں ہو گا، جس کی وجہ سے نشریات کو روکنے کا یہ اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ندال حسن وہ شخص ہے جو فورٹ হুڈ کے فوجی اڈے پر ہونے والے ایک تباہ کن حملے میں ملوث پایا گیا تھا، جس کے بعد اسے فوجی عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ یہ واقعہ امریکی فوجی تاریخ میں ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی سزا پر عمل درآمد کو لے کر پہلے ہی کافی بحث مباحثہ جاری تھا۔
ماہرین کے مطابق، اس سزائے موت کو امریکی فوج میں طویل عرصے بعد ہونے والی پہلی فوجی پھانسی کی حیثیت حاصل ہے، جس کی وجہ سے اس کی قانونی اور اخلاقی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اب جب کہ لائیو نشریات منسوخ کر دی گئی ہیں، کارروائی کو خفیہ یا محدود دائرے میں رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ ضابطے کے تحت تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں۔