World
رەسൽ برانڈ جنسی زیادتی کیس: متاثرہ خاتون کا عدالت میں اہم بیان
برطانوی کامیڈین اور اداکار رەسൽ برانڈ پر جنسی زیادتی اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مقدمے کی سماعت کے دوران متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کے وقت ملزم کا رویہ انتہائی وحشیانہ ہو گیا تھا۔
برطانوی اداکار اور میڈیا شخصیت رەسൽ برانڈ کے خلاف جاری قانونی جنگ میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب ان پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کرنے والی ایک خاتون نے عدالت میں ہوشربا انکشافات کیے۔ اکیاون سالہ رەسൽ برانڈ کو اس وقت متعدد سنگین الزامات کا سامنا ہے جن میں ریپ کی تین دفعات، جنسی حملے کے تین الزامات اور نازیبا سلوک کی ایک دفعہ شامل ہے۔ ان الزامات نے شوبز کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے اور مداحوں سمیت ہر کوئی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔
مقدمے کی حالیہ سماعت کے دوران، متاثرہ خاتون نے عدالت کے روبرو اپنے بیان میں بتایا کہ مبینہ زیادتی کے واقعے سے قبل رەسൽ برانڈ کا رویہ یکسر تبدیل ہو گیا تھا۔ خاتون نے بیان دیا کہ ملزم اس واقعے کے دوران کسی درندے یا عفریت کی مانند ہو گیا تھا، جس نے ان کی مرضی کے خلاف انتہائی خوفناک قدم اٹھایا۔ یہ بیانات اس طویل قانونی عمل کا حصہ ہیں جو پچھلے کچھ عرصے سے برطانوی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے، اور اس میں مزید متاثرین کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
دوسری جانب، رەسல் برانڈ اور ان کے قانونی مشیروں کی جانب سے ان تمام الزامات کی بھرپور تردید کی گئی ہے۔ ملزم کے وکلاء کا اصرار ہے کہ ان کے خلاف لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور ماضی میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے غلط بیانی کی جا رہی ہے۔ برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور استغاثہ کی ٹیم اس پورے معاملے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ عدالتی کارروائی کو شفاف طریقے سے آگے بڑھایا جا سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
اس ہائی پروفائل مقدمے نے معاشرے میں جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھانے والے پلیٹ فارمز کو مزید تقویت بخشی ہے اور اس نوعیت کے دیگر مقدمات پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس کی سماعت کے دوران مزید اہم شواہد اور گواہوں کے بیانات سامنے آ سکتے ہیں جو اس پورے مقدمے کا رخ طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عدالت نے فریقین کو مزید شواہد جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر دی ہے۔