Business
برطانوی بجٹ 2024: بینکوں پر نئے ٹیکسوں کا خدشہ اور حکومتی معاشی پالیسیاں
برطانیہ کے سینئر بینکنگ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اس ماہ کے آخر میں پیش کیے جانے والے بجٹ میں ان کے منافع کو خصوصی ٹیکسوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔ بینکوں کے مطابق وہ چانسلر کے مجوزہ ٹیکس اقدامات کی زد میں آ سکتے ہیں۔
برطانیہ کے سینئر بینکنگ ایگزیکٹوز نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس ماہ کے آخر میں متوقع چانسلر کے بجٹ میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ بینکنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت کے پاس بینکوں کا منافع ہی ایک آسان ہدف بچا ہے۔ اس متوقع قدم سے مالیاتی اداروں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ وہ پہلے ہی مختلف معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
برطانوی معیشت اس وقت متعدد اندرونی اور بیرونی دباؤ کا شکار ہے، اور حکومت پر لازمی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ریونیو بڑھانے کا شدید دباؤ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بینکوں کے منافع پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ بظاہر حکومت کے لیے وقتی طور پر مالی ریلیف کا باعث بن سکتا ہے، تاہم اس سے طویل مدت میں سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بینکنگ انڈسٹری کے نمائندوں نے حکومتی حلقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس پالیسیوں کو حتمی شکل دیتے وقت صنعت کی پائیداری کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
حکومت کی جانب سے تاحال ان اطلاعات پر کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ چانسلر کے لیے مالیاتی توازن قائم کرنا ایک کڑا امتحان ہوگا۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا حکومت واقعی بینکوں کے منافع کو ہدف بناتی ہے یا پھر کسی متبادل معاشی حکمت عملی کا انتخاب کرتی ہے۔ اس تمام صورتحال پر فنانس مارکیٹس کی بھی گہری نظر ہے اور سرمایہ کار کسی بھی ناگہانی فیصلے سے بچنے کے لیے محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔