LIVE
Loading Breaking News...

پہتر ہزار سال پرانا زخم اور نینڈرتھل دور کا تشدد

News Image
نیکسترا نیوز اردو کی اس رپورٹ کے مطابق پچہتر ہزار سال پرانا نیزے کا زخم اس بات کا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ قدیم انسانی زندگی میں تشدد کا عنصر بہت پہلے سے موجود تھا۔ یہ دریافت نینڈرتھل تہذیب اور قدیم انسانی رویوں کے بارے میں ہمارے فہم کو وسعت دیتی ہے۔
ماہرینِ آثار قدیمہ نے ایک ایسے پچہتر ہزار سال پرانے زخم کا انکشاف کیا ہے جس نے قدیم انسانوں کے آباؤ اجداد یعنی نینڈرتھل (Neanderthal) کی زندگی کے بارے میں ہماری سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ زخم کسی نیزے کے وار کا نتیجہ ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس دور میں تشدد اور جھگڑے انسانی زندگی کا ایک اہم اور نمایاں حصہ تھے۔ یہ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ قدیم انسانوں کے باہمی تعلقات اور معاشرتی زندگی میں تنازعات اتنے ہی پرانے ہیں جتنا کہ خود انسان کا ارتقاء۔ تحقیق کے مطابق، اس دریافت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نینڈرتھل انسانوں کی زندگی اتنی پرامن نہیں تھی جتنا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں وسائل کے حصول، علاقوں کی تقسیم یا دیگر قبائلی وجوہات کی بنا پر تنازعات پیدا ہوتے تھے، جنہیں تلواروں یا نیزوں کے ذریعے حل کیا جاتا تھا۔ ماہرین نے اس زخم کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ وار کس زاویے سے کیا گیا تھا اور اس سے حملے کی نوعیت کیا تھی۔ اس قسم کے شواہد سائنسی دنیا کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ ہمیں انسانی ارتقاء کے تاریک اور پُرتشدد پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہیں۔ تاریخ دان اور ماہرینِ بشریات اس بات پر متفق ہیں کہ اس طرح کی دریافتیں نہ صرف ہمیں ماضی کی جھلک دکھاتی ہیں بلکہ یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہیں کہ آج کی انسانی جبلت میں تشدد کا مادہ کہاں سے آیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں اس بات کا مزید جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا اس نوعیت کے دیگر زخم بھی اس دور کے ڈھانچوں پر موجود ہیں یا نہیں۔