World
برطانیہ میں خشک سالی کا اعلان، پانی کے استعمال پر سخت پابندیاں
برطانیہ کے جنوبی حصوں میں خشک سالی کی شدید لہر کے بعد باضابطہ طور پر خشک سالی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس پابندی کی زد میں تقریباً تین کروڑ افراد آ چکے ہیں جنہیں ہوز پائپ کے استعمال سے منع کیا گیا ہے۔
برطانیہ کے جنوبی اور وسطی حصوں میں موسم کی طویل خشک صورتحال اور بارشوں کی کمی کے باعث انتظامیہ نے باضابطہ طور پر شدید خشک سالی کا اعلان کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں معمول سے بہت کم بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں جس کی وجہ سے آبی ذخائر اور ندی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی گئی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی کی فراہمی کرنے والے اداروں نے ہنگامی اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔
نئے احکامات کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں لگ بھگ تین کروڑ افراد سخت پابندیوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ ان پابندیوں میں سب سے نمایاں 'ہوز پائپ بین' ہے، جس کے تحت شہری اپنے باغات کو پانی دینے، گاڑیاں دھونے اور گھروں کے باہر صفائی کے لیے نل یا ہوز پائپ کا استعمال نہیں کر سکتے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد آنے والے مہینوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا اور پانی کے ضیاع کو روکنا ہے۔
ماہرِ ماحولیات اور محکمہ موسمیات کے حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتیں اور بچت کی روش اپنائیں۔ اگرچہ شہریوں کو گھریلو استعمال کے لیے پانی ملتا رہے گا، لیکن غیر ضروری سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر بارشوں کا سلسلہ جلد شروع نہ ہوا تو پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقے کے واٹر بورڈ کی جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔