LIVE
Loading Breaking News...

نائجل فراج کا پارٹی کونسلرز کے نسل پرستانہ تبصروں پر دفاع

News Image
برطانوی سیاسی جماعت ریفارم کے رہنما نائجل فراج نے انکشافات کے بعد پارٹی کے امیدواروں کے پس منظر کی جانچ پڑتال کا دفاع کیا ہے۔ خفیہ طور پر فلمائے گئے مناظر میں پارٹی کارکنان کو نسل پرستانہ ریمارکس دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
برطانوی سیاسی جماعت ریفارم یو کے کے رہنما نائجل فراج نے پارٹی کے کونسلرز اور کارکنان کی جانب سے مبینہ طور پر نسل پرستانہ ریمارکس دیے جانے کے اسکینڈل پر اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی کے کچھ کارکنان کو خفیہ طور پر فلمایا گیا تھا جس میں وہ مبینہ طور پر نسل پرستانہ اور تعصب پر مبنی گفتگو کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ اس انکشاف کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور جماعت کی اندرونی جانچ پڑتال کے طریقہ کار پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان الزامات اور تنقید کا جواب دیتے ہوئے نائجل فراج نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی جماعت کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ امیدواروں کی جانب سے مستقبل میں دیے جانے والے بیانات کی پہلے سے جانچ پڑتال کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اپنے امیدواروں کو منتخب کرتے وقت تمام تر دستیاب طریقہ کار اور قوانین کو مدنظر رکھتی ہے، تاہم کسی فرد کے مستقبل کے رویے یا خیالات کی مکمل ضمانت دینا کسی بھی تنظیم کے دائرہ کار سے باہر کی بات ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے لیکن ماضی کے فیصلوں پر کی جانے والی تنقید کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ ریفارم پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے جو حالیہ برطانوی سیاست میں تیزی سے ابھر رہی ہے۔ اس اسکینڈل کے بعد جماعت کو اپنی صفوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور انتخابی عمل کے دوران امیدواروں کے انتخاب کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ نائجل فراج کی جانب سے اس معاملے پر کیا جانے والا یہ دفاع اب برطانوی میڈیا اور سیاسی پنڈتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں اس کے طویل مدتی سیاسی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔