LIVE
Loading Breaking News...

اسکائی اور آئی ٹی وی ڈیل: برطانوی وزیرِ ثقافت کا مداخلت کا فیصلہ

News Image
برطانوی وزیرِ ثقافت نے کہا ہے کہ اسکائی کی جانب سے آئی ٹی وی کے انٹرٹینمنٹ ڈون کے ڈیڑھ ارب پاؤنڈ کے حصول کے معاہدے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ڈیل سے میڈیا میں اظہارِ رائے کی آزادی اور خبروں کے تنوع پر اثر پڑ سکتا ہے۔
برطانیہ کی ثقافت سیکرٹری نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اسکائی کی جانب سے آئی ٹی وی کے انٹرٹینمنٹ بازو کے ڈیڑھ ارب پاؤنڈ مالیت کے مجوزہ حصول کے معاملے میں مداخلت کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس اہم کاروباری اور میڈیا ڈیل کے حوالے سے حکومتی سطح پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ برطانوی میڈیا میں رقابت اور خبروں کے تنوع کا تحفظ ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بڑے کارپوریٹ انضمام سے میڈیا انڈسٹری پر چند اداروں کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے جو طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں برطانوی معاشرے میں خبروں کے ذرائع کی جو وسیع اقسام اور تنوع پایا جاتا ہے، اسے شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ، آزادیِ اظہارِ رائے کا معاملہ بھی اس پوری بحث کے مرکز میں ہے۔ ثقافت سیکرٹری کے اس بیان کے بعد اب اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اس ڈیل کی باضابطہ جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس سے عوامی مفاد کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ میڈیا انڈسٹری کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اس معاملے میں باضابطہ طور پر مداخلت کرتی ہے تو اسکائی اور آئی ٹی وی کے درمیان ہونے والے اس اربوں پاؤنڈ کے معاہدے میں بڑی تاخیر یا قانونی رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ یہ معاملہ نہ صرف کاروباری دنیا بلکہ برطانوی سیاست اور میڈیا کے حلقوں میں بھی بڑی بحث کا موضوع بن چکا ہے، جہاں ہر کوئی اس کے ممکنہ نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔