LIVE
Loading Breaking News...

مساوات کے نگران ادارے کا گرین پارٹی کو خط، صیہونیت کی قرارداد پر وضاحت طلب

News Image
برطانیہ کے مساوات اور انسانی حقوق کمیشن نے گرین پارٹی کو ایک متنازع قرارداد پر خط لکھا ہے۔ پارٹی پر اراکین پارلیمنٹ اور یہود دشمنی کے خلاف سرگرم مہم چلانے والوں کی جانب سے باضابطہ شکایت درج کرائی گئی تھی۔
برطانیہ کے اہم مساوات اور انسانی حقوق کے نگراں ادارے (EHRC) نے گرین پارٹی کو ایک متنازع قرارداد کے معاملے پر باضابطہ طور پر خط لکھا ہے۔ یہ معاملہ صیہونیت سے جڑی ایک قرارداد کے گرد گھومتا ہے جس میں اسے مبینہ طور پر نسل پرستی سے تشبیہ دی گئی تھی، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ برطانوی سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس قرارداد کو لے کر شدید غم و غصہ پایا جا رہا تھا اور اس کی بازگشت پارلیمنٹ تک بھی سنائی دی۔ ذرائع کے مطابق گرین پارٹی کے خلاف یہ رپورٹنگ ارکانِ پارلیمنٹ اور یہود دشمنی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے نامور مہم چلانے والوں کی جانب سے کی گئی تھی۔ شکایات کنندگان کا موقف تھا کہ اس قسم کی قراردادیں معاشرے میں تفریق کو بڑھاوا دیتی ہیں اور یہود دشمنی کے زمرے میں آتی ہیں۔ مساوات کے کمیشن کو دی گئی درخواست میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات اور پالیسیوں کی جانچ پڑتال کی جائے تاکہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ برطانوی قوانین کے تحت مساوات اور انسانی حقوق کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں اور اداروں کی جانب سے مساوات کے قوانین کی پاسداری کا جائزہ لے۔ کمیشن کی جانب سے خط لکھے جانے کے بعد اب گرین پارٹی پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرے اور الزامات کا تسلی بخش جواب دے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ گرین پارٹی کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے کیونکہ اس سے پارٹی کے اندرونی اتحاد اور باہری سیاسی ساکھ دونوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے کیونکہ انسانی حقوق کے ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس قرارداد سے کسی مخصوص طبقے کے حقوق متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔ گرین پارٹی کی قیادت کی جانب سے تحال اس خط کے موصول ہونے کے بعد اندرونی مشاورت کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ کمیشن کے خدشات کو دور کیا جا سکے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔