LIVE
Loading Breaking News...

امیگریشن حراستی مراکز میں اموات: فالٹ لائنز کی نئی رپورٹ

News Image
صدر ٹرمپ کے دور میں امیگریشن حراستی مراسز کے اندر اموات کی شرح میں ہونے والے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے تحقیقاتی پروگرام فالٹ لائنز نے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار میں امیگریشن کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کے بعد ملک بھر کے حراستی مراکز میں تارکین وطن کی اموات کی شرح میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے معروف تحقیقاتی پروگرام 'فالٹ لائنز' نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ان حراستی مراکز کے اندر انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے اور وہاں موجود تارکین وطن کو شدید ذہنی و جسمانی دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حراستی مراکز میں بنیادی طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے جس کی وجہ سے معمولی بیماریاں بھی جان لیوا ثابت ہو رہی ہیں۔ تارکین وطن کو طویل عرصے تک بغیر کسی قانونی چارہ جوئی یا مناسب سماعت کے ان بند کمروں اور سیلوں میں رکھا جاتا ہے جہاں صفائی اور خوراک کے معیارات انتہائی پست ہیں۔ اس ظالمانہ نظام کے نتیجے میں نہ صرف لوگوں کی نفسیاتی صحت تباہ ہو رہی ہے بلکہ بہت سے بے گناہ افراد طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان حراستی مراکز کے اندرونی حالات کا جائزہ لے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس طرح اموات کا تسلسل کسی بھی مہذب معاشرے کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ فالٹ لائنز کی اس دستاویزی اور تحقیقی رپورٹ نے ایک بار پھر امریکی امیگریشن پالیسیوں کے تاریک پہلوؤں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان پالیسیوں میں فوری طور پر اصلاحات نہ کی گئیں اور حراستی مراکز میں بہتری نہ لائی گئی تو اموات کے اس المناک سلسلے کو روکنا ناممکن ہو جائے گا جو کہ انسانیت کے منافی ہے۔