World
انڈونیشیا میں فیری میں آگ لگنے سے 5 ہلاک اور 41 لاپتہ
انڈونیشیا کے سمندر میں پیش آنے والے اس خوفناک حادثے کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ امدادی ٹیموں کی جانب سے لاپتہ ہونے والے اکیالیس افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن تیزی سے جاری ہے۔
انڈونیشیا کے سمندر میں ایک مسافر بردار فیری میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے جبکہ اکتالیس افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ مقامی حکام اور ریسکیو اداروں کے مطابق یہ حادثہ انڈونیشیائی جزائر کے قریب پیش آیا جہاں فیری مسافروں کو لے کر جا رہی تھی کہ اچانک اس میں آگ لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں نے پورے جہاز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حکام نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور میری ٹائم سیکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر درجنوں مسافروں کو بحفاظت نکال لیا۔ تاہم، آگ اتنی شدید تھی کہ ابتدائی کارروائیوں کے دوران پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ عملے اور مسافروں سمیت اکتالیس افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ سمندر میں طلاشی اور بچاؤ کا آپریشن جاری ہے تاکہ لاپتہ ہونے والے افراد کو جلد از جلد تلاش کیا جا سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فیری پر سوار افراد کی درست تعداد کے حوالے سے معلومات جمع کی جا رہی ہیں اور تارکین یا مسافروں کے لواحقین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی افراد شدید جھلس گئے ہیں یا حادثے کے بعد سمندر میں کود گئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ آگ تکنیکی خرابی کی وجہ سے لگی یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ کارفرما تھی۔ انڈونیشیا جیسے جزیرہ نما ملک میں سمندری نقل و حمل کے دوران حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، جس کے بعد اس قسم کے حادثات پر ایک بار پھر گہرے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔