Health
دل کی بیماری اور ہسپتالوں کا نظام: گلین ڈوائٹ کا انوکھا تجربہ
دل کے دورے اور اس کے بعد کے تجربات نے گلین ڈوائٹ کی زندگی کا زاویہ ہی بدل ڈالا۔ انہوں نے ہسپتالوں اور طبی عملے کی خدمات کو ایک نئے تناظر میں دیکھا ہے۔
جب جامعہ اوٹاگو نے چند ماہ بعد مجھ سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا میں دل کے ایک مطالعے میں حصہ لینے میں دلچسپی رکھتا ہوں، تو میں نے قدرتی طور پر یہی سمجھا کہ وہ شاید صرف اپنے اس پیارے مریض کو واپس بلانا چاہتے ہیں۔ دل کی تکلیف اور اس کے بعد ہسپتالوں کے چکر نے میری زندگی کے تمام فلسفے بدل کر رکھ دیے تھے۔ ایک طویل اور مشکل طبی سفر سے گزرنے کے بعد یہ حقیقت مجھ پر عیاں ہوئی کہ جدید ترین آلات اور بلند و بالا عمارات اپنی جگہ اہم سہی، لیکن کسی بھی ہسپتال کی اصل روح وہاں کام کرنے والے انسان ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے تو اسے دیواریں یا مشینیں تسلی نہیں دیتیں، بلکہ ایک نرس کی شفقت، ڈاکٹر کے تسلی بخش الفاظ اور وارڈ بوائے کا خلوص ہوتا ہے جو مریض کو نئی زندگی کی امید دلاتا ہے۔ ہسپتال بنیادی طور پر انسانوں کے جذبے پر قائم ہیں۔ اس طبی مطالعے میں شرکت کے دوران مجھے ایک بار پھر اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ طبی عملہ کس قدر محنت اور قربانی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر ہم ہسپتالوں کی خوبصورتی یا سہولیات پر تو بات کرتے ہیں، مگر ان سفید کوٹوں میں چھپے ان انسانوں کو بھول جاتے ہیں جو دن رات اپنی زندگیاں دوسروں کی بہتری کے لیے وقف کیے ہوتے ہیں۔ دل کے اس بڑے صدمے نے مجھے سکھایا کہ اگر آج میں زندہ ہوں تو اس میں ان لاتعداد گمنام ہیروز کا ہاتھ ہے جنہوں نے بحران کی ہر گھڑی میں میرا ساتھ دیا۔ اس تجربے نے مجھے ایک بہتر انسان اور زیادہ باشعور شہری بنا دیا ہے جو اب طبی نظام کی محض خامیوں پر تنقید کرنے کے بجائے اس کے پس پردہ موجود انسانی جذبے کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔