Technology
امریکی واٹر سسٹمز پر سائبر حملے، ایرانی ہیکرز کے ملوث ہونے کا انکشاف
امریکی واٹر سسٹمز پر حالیہ سائبر حملوں کے پیچھے ایرانی ہیکرز کے ملوث ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو کم از کم سات ریاستوں تک پھیل چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، تاحال تہران کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہ کیا جانا ایک حیران کن بات ہے۔
امریکہ کے مختلف حصوں میں واٹر سسٹمز کو نشانہ بنانے والی سائبر حملوں کی ایک وسیع مہم کے پیچھے ایرانی ہیکرز کے ملوث ہونے کے مضبوط شواہد ملے ہیں۔ یہ حملے اب تک کم از کم سات امریکی ریاستوں تک پھیل چکے ہیں، جن میں اکیلے منسوٹا کے تیس سے زائد واٹر سسٹمز بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سائبر مہم کا دائرہ کار بتدریج وسیع ہوتا جا رہا ہے جو کہ ملکی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ امریکی حکام اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے عام طور پر کسی بڑے مقصد کے تحت کیے جاتے ہیں اور ان کا ہدف حساس تنصیبات کو نقصان پہنچانا یا ان تک رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں ایک انتہائی اہم اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ تاحال کسی بھی ایرانی سرکاری سطح یا اس سے منسلک گروپ کی جانب سے باضابطہ طور پر ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔ سائبر سکیورٹی کے امور کے ماہرین کے مطابق، عام طور پر اس طرح کے بڑے سائبر حملوں کے بعد متعلقہ ممالک یا گروپس سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا اپنے اثر و رسوخ کا رعب ڈالنے کے لیے ان کی ذمہ داری فوراً قبول کر لیتے ہیں، مگر اس معاملے میں تہران کی خاموشی نے تجزیہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی سکیورٹی ادارے اب ان حملوں کے پس پردہ کارفرما محرکات اور ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کو رونما ہونے سے روکا جا سکے۔ واٹر سسٹمز اور دیگر اہم ترین شہری بنیادی ڈھانچے کی سائبر سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے نقصان سے بروقت بچا جا سکے۔