Technology
ہیومنائڈ روبوٹکس میں چین کا غلبہ، امریکہ معیار میں آگے
لیکسس نیکسس کی نئی پیٹنٹ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق چین نے ہیومنائڈ روبوٹکس کی دنیا میں نمایاں برتری حاصل کرتے ہوئے سرفہرست دس میں سے چھ پوزیشنز اپنے نام کر لی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اس شعبے میں کوالٹی اور معیار کے لحاظ سے تاحال سب سے آگے ہے۔
چین نے عالمی سطح پر ہیومنائڈ روبوٹکس کے شعبے میں اپنی اجارہ داری قائم کرتے ہوئے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ایک نئی لیکسس نیکسس پیٹنٹ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، چین دنیا بھر میں ہیومنائڈ روبوٹس کے حوالے سے ایک سرکردہ گلوبل انوویٹر کے طور پر ابھرا ہے۔ اس تفصیلی رپورٹ میں دنیا بھر سے چھبیس ہزار سے زائد پیٹنٹ فیملیز کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سے ممالک اور ادارے اس جدید اور تیزی سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹاپ دس پوزیشنز میں سے چھ پر چینی اداروں اور محققین کا قبضہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق چینی حکومت اور نجی صنعتی اداروں کی جانب سے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خطیر سرمائے کی فراہمی اور مسلسل تحقیق نے اس میدان میں چین کو سب سے آگے لا کھڑا کیا ہے۔ فیکٹری آٹومیشن، سروس روبوٹس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز کے پیٹنٹس میں چینی اداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس ترقی کا مقصد صنعتی پیداوار کو تیز کرنا اور بڑھتی ہوئی افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ چین کے بڑے کارپوریشنز اور یونیورسٹیاں اس ٹیکنالوجی کو عام کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں جس کے گہرے اثرات عالمی معیشت اور صنعتی منظرنامے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب، اگرچہ تعداد اور حجم کے لحاظ سے چین کا پلڑا بھاری ہے لیکن ماہرین کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ معیار اور جدید تکنیکی کوالٹی کے اعتبار سے ریاستہائے متحدہ امریکہ اب بھی کئی شعبوں میں برتری رکھتا ہے۔ امریکی کمپنیاں اور تحقیقی ادارے روبوٹس کے سافٹ ویئر، دماغی صلاحیتوں اور اعصابی ہم آہنگی کے انتہائی پیچیدہ اور اعلیٰ معیار کے حامل پیٹنٹس پر کام کر رہے ہیں۔ امریکہ کی توجہ ہارڈ ویئر کی مقدار کی بجائے اس کی کارکردگی اور طویل المدتی پائیداری پر مرکوز ہے، جس کی وجہ سے امریکی ہیومنائڈ روبوٹس کو عالمی سطح پر زیادہ معیاری سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں ہیومنائڈ روبوٹکس کی یہ عالمی دوڑ مزید تیز ہو جائے گی کیونکہ چین اور امریکہ دونوں ہی اس اہم تیکنیکی محاذ پر ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین کی تعداد اور امریکہ کی کوالٹی کا یہ مقابلہ روبوٹکس کی صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف صنعتی عمل بلکہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں بھی نمایاں تبدیلیاں آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔