AI
مصنوعی ذہانت اور انسانی فریب - نیکسورا نیوز
مصنوعی ذہانت کے خطرات کے بارے میں ہمارے تمام روایتی خیالات اور کہانیاں ایک نئے فریب کی عکاسی کرتی ہیں۔ اصل خطرہ مشین کا خود مختار ہونا نہیں بلکہ انسانی رویے اور غلط فہمیاں ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے بارے میں آج جو بھی تنبیہی کہانیاں ہمیں سنائی جاتی ہیں، ان کی جڑیں تاریخی تمثیلوں میں پیوست ہیں۔ جس طرح پرومیتھئس نے آگ چرائی اور اسے ابدی سزا ملی، فرینکنسٹین نے ایک ایسی مخلوق کو زندگی دی جسے وہ قابو میں نہ رکھ سکا، یا پھر ٹائٹینک کو غیر ڈوبنے والا جہاز قرار دیا گیا لیکن وہ اپنے پہلے ہی سفر میں غرق ہو گیا۔ یہ تمام داستانیں اس بنیادی خوف کی عکاسی کرتی ہیں جو انسان نے ہمیشہ اپنی بنائی ہوئی طاقت کے بارے میں محسوس کیا ہے۔ تاہم، آج کی جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) کے تناظر میں ہمارا سب سے خطرناک فریب یہ ہے کہ ہم اس خطرے کو مشینوں کی طرف منسوب کر رہے ہیں جبکہ اصل خطرہ خود انسان ہے۔ جب ہم مصنوعی ذہانت کی ترقی پر غور کرتے ہیں، تو ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ایک دن یہ مشینیں اتنی طاقتور ہو جائیں گی کہ وہ انسانوں کو غلام بنا لیں گی یا ہماری دنیا پر قابض ہو جائیں گی۔ یہ نظریہ سائنس فكشن فلموں میں بہت مقبول ہے لیکن یہ حقیقت سے کووسوں دور ہے۔ مصنوعی ذہانت خود سے کوئی ارادہ نہیں رکھتی، یہ صرف وہی کرتی ہے جو انسان اسے سکھاتا ہے یا جس ڈیٹا پر اسے تربیت دی جاتی ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ مشین کی ذہانت کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود انسانی مقاصد اور ترجیحات کا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے غلط استعمال سے جو نقصانات ہو سکتے ہیں، ان کی ذمہ داری بھی براہ راست انسانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کے الگورتھم متعصبانہ ہوں یا وہ معاشرے میں تفریق پیدا کریں، تو اس کی وجہ ٹیکنالوجی کی اپنی کوئی سوچ نہیں بلکہ اس ڈیٹا کا بگاڑ ہے جو انسانوں نے ہی فراہم کیا ہے۔ لہذا، یہ سمجھنا کہ ٹیکنالوجی خود بخود تباہی کی طرف لے جائے گی، ایک خطرناک خوش فہمی اور فریب ہے۔ اس سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی تخلیق کردہ ٹیکنالوجی کی ذمہ داری خود قبول کریں اور اخلاقی اصولوں کو مضبوط بنائیں۔