LIVE
Loading Breaking News...

گرمی انسانی صحت پر اثر انداز: تیزی سے بڑھاپے کا سبب بننے والی تحقیق

News Image
ایک حالیہ سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ شدید گرمی اور ہیٹ ویو کا سامنا کرنے سے انسانی جسمانی عمر تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔ گرم موسم کا براہ راست اثر کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی سطح پر پڑتا ہے جو حیاتیاتی بڑھاپے کی علامت ہیں۔
ایک نئی اور چونکا دینے والی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موسم گرما کی شدت اور بڑھتی ہوئی گرمی نہ صرف روزمرہ کی زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ یہ انسانوں کو اندرونی طور پر تیزی سے بوڑھا بھی کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہیٹ ویو اور شدید گرم موسم کے دوران طویل وقت تک رہنے سے انسانی جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو حیاتیاتی عمر میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ اس مطالعے میں گرمی کے طویل المدت اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ہیٹ ویو کے دوران انسان کا جسم شدید دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس موسمی دباؤ کے نتیجے میں خون میں کولیسٹرول کی سطح اور بلڈ شوگر کے ایک اہم مارکر 'ایچ بی اے ون سی' (HbA1c) میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کولیسٹرول اور بلڈ شوگر میں یہ اتار چڑھاؤ دراصل جسمانی زوال اور حیاتیاتی بڑھاپے کے بنیادی اجزاء میں شامل ہیں، جو صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ماہرینِ صحت کا مزید کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں گرمی کی لہریں زیادہ شدید اور طویل ہوتی جا رہی ہیں، جس سے عام لوگوں کی صحت بالخصوص بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا اور مناسب حفاظتی تدابیر اختیار نہ کی گئیں، تو آنے والے وقتوں میں صحت کے مسائل اور قبل از وقت بڑھاپے کے کیسز میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ اس تحقیق نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ماحولیاتی درجہ حرارت کا بڑھنا صرف معاشی یا زرعی نقصان کا باعث نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی جسمانی ساخت اور عمر رسیدہ ہونے کے عمل کو بھی براہ راست کنٹرول کر رہا ہے۔ محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شدید گرمی کے دنوں میں عوام کو چاہیے کہ وہ خود کو سورج کی براہ راست روشنی سے بچائیں، زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں اور ہیٹ ویو کے دوران بلاضرورت باہر نکلنے سے گریز کریں تاکہ اس طرح کے منفی طبی اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔