World
غزہ میں اسرائیلی حملے کے ملبے سے بچے کی لاش برآمد
غزہ شہر کے مغربی حصے میں ایک تباہ کن اسرائیلی فضائی حملے کے بعد مقامی رہائشیوں نے ملبے سے ایک جنین کی لاش نکالی۔ یہ افسوسناک واقعہ اس خطے میں جاری شدید بمباری کے تباہ کن انسانی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
غزہ شہر کے مغربی علاقے میں اسرائیلی فوج کی طرف سے کیے گئے ایک شدید فضائی حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے۔ اس تباہ کن حملے کے بعد جب مقامی رہائشی اور امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کر رہے تھے تو انہیں وہاں سے ایک غیر متولد بچے یعنی جنین کی لاش ملی۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے جنگ سے متاثرہ اس علاقے میں انسانی المیے کی سنگین نوعیت کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
حملے کا نشانہ بننے والے مقام پر مکانات مکمل طور پر مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں، اور لوگوں کو اپنے پیاروں کی لاشیں ڈھونڈنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، حملے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اردگرد کی عمارتیں بھی ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ ایسے میں لاشوں اور ملبے کو ہٹانے کے لیے جدید مشینری کی عدم دستیابی کی وجہ سے شہریوں کو اپنے ہاتھوں سے ہی ملبہ ہٹانا پڑ رہا ہے، جس کے دوران یہ افسوسناک دریافت سامنے آئی۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بمباری سے سب سے زیادہ نقصان معصوم بچوں اور خواتین کو اٹھانا پڑ رہا ہے جو کسی بھی جنگی ضابطے کے خلاف ہے۔ غزہ کے شہری مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور بنیادی طبی امداد کی عدم دستیابی صورتحال کو مزید ابتر بنا رہی ہے۔