World
سیوتا میں مہاجرین کی اموات: مرکش سرحد سے آنے والوں کا المیہ
مراکش سے غیر معمولی سرحدی آمد کے بعد ہسپانوی انکلیو سیوتا کے ساحلی علاقوں سے مزید پانچ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ اس تازہ ترین اضافے کے ساتھ خطے میں سمندر اور سرحد عبور کرنے کی کوشش میں جان بحق ہونے والے مہاجرین کی مجموعی تعداد 72 تک پہنچ گئی ہے۔
ہسپانوی انکلیو سیوتا کے ساحلی علاقوں سے مزید پانچ لاشیں برآمد ہونے کے بعد خطے میں مہاجرین کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر بہتر ہو گئی ہے۔ یہ لرزہ خیز اموات اس وقت سامنے آئیں جب مراکش کی طرف سے غیر معمولی اور ہجوم کی شکل میں تارکین وطن نے سرحد پار کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بحیرہ روم اور یورپی سرحدوں پر جاری تارکین وطن کے بحران کو شدید ترین موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ مقامی حکام اور ریسکیو ٹیمیں ساحلی پٹی پر لگاتار سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ڈوبنے والے فرد کو تلاش کیا جا سکے، تاہم سمندر کے سخت حالات اور زیادہ سردی کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں سینکڑوں افراد نے حفاظتی باڑ توڑ کر یا سمندر کے راستے سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، جس سے ہسپانوی سکیورٹی فورسز اور امدادی اداروں پر بے پناہ دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے والے ان غریب اور بے سہارا تارکین وطن کا یہ سفر انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے، جہاں معمولی سی غفلت یا موسم کی خرابی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یورپی یونین اور متعلقہ ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انسانی المیے سے نمٹنے کے لیے فوری، موثر اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ نے لاشوں کی شناخت اور ان کے لواحقین تک رسائی کے لیے بھی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ ہے تاکہ کسی بھی زندہ بچ جانے والے تارکین وطن کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے، اس بحران نے ایک بار پھر سرحدوں کی سکیورٹی اور انسانی ہمدردی کے تنازعات کو دنیا بھر میں بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔