LIVE
Loading Breaking News...

ایم کیو ایم پاکستان بہادرآباد مرکز میں ہنگامہ اور فائرنگ سے ایک شخص زخمی

News Image
کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے بہادرآباد مرکز میں پارٹی اجلاس کے دوران دو گروپوں کے حامیوں میں تصادم کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد پارٹی قیادت کی پریس کانفرنس ملتوی کر دی گئی جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔
کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے بہادرآباد واقع مرکزی دفتر میں اتوار کی شام ایک اہم اجلاس کے دوران شدید ہنگامہ آرائی اور دو گروپوں کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ ناخوشگوار واقعہ اس وقت پیش آیا جب اجلاس جاری تھا اور اسی دوران پارٹی کے مبینہ طور پر دو حریف دھڑوں کے حامیوں کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوگئی جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی اور شدید جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ اس دوران فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد پارٹی کے اندرونی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی اور ہنگامہ آرائی کے باعث قیادت کی جانب سے طے شدہ پریس کانفرنس بھی فوری طور پر ملتوی کر دی گئی۔ پولیس حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوا ہے جسے طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ اس اندرونی کشیدگی اور جھگڑے کی اصل وجہ کیا تھی۔ تاہم پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے حالات پر مکمل قابو پا لیا۔ پولیس نے مزید بتایا کہ واقعے کے حوالے سے تاحال نیو ٹاؤن تھانے میں کسی فریق کی جانب سے باضابطہ شکایت درج نہیں کروائی گئی ہے اور اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ جھگڑے کا اصل محرک کیا تھا۔ اس واقعے پر سیاسی حلقوں اور دیگر جماعتوں کی طرف سے بھی تبصرے سامنے آئے ہیں۔ سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ایم کیو ایم کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ سندھ کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھتے تھے وہ آج اپنے ہی گھر کو سنبھالنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پہلے بھی ایک تھا، آج بھی متحد ہے اور آئندہ بھی متحد رہے گا جبکہ عوام نے نفرت کی سیاست کرنے والوں کو ایک بار پھر واضح پیغام دے دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ ایم کیو ایم پاکستان کے اندر اندرونی اختلافات اور دھڑے بندیوں کو ظاہر کرتا ہے جو پارٹی کے لیے آنے والے دنوں میں مزید سیاسی چیلنجز کا باعث بن سکتا ہے۔