World
سپेन کے سبتہ انکلیو میں تارکینِ وطن کی ہلاکتیں اور حالیہ بحران
سپेन کے شمالی افریقی انکلیو سبتہ میں تارکینِ وطن کے ہجوم کی آمد کے دوران مرنے والوں کی تعداد کم از کم بہتر ہو گئی ہے۔ اس بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے بحران نے اسپین اور یورپی یونین کے درمیان سفارتی تناؤ کو بڑھا دیا ہے۔
سپेन کے شمالی افریقی انکلیو سبتہ میں حال ہی میں تارکینِ وطن کے غیر معمولی اور بڑے پیمانے پر رش کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کم از کم بہتر ہو گئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے دوران دسویں ہزاروں افراد نے مراکش سے سرحد پار کر کے یا تیر کر اسپین کے اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، جس کے نتیجے میں یہ المناک جانی نقصان ہوا۔ حکومتی نمائندے میگوئل اینجل پیریز ٹرانو نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بہتر ہو چکی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ تعداد سڑسٹھ بتائی جا رہی تھی۔ اس اچانک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی نے پورے خطے میں ہنگامہ برپا کر دیا اور اسپین کے لیے ایک سنگین بین الاقوامی بحران پیدا ہو گیا۔
بدھ سے جمعے کے درمیان پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد اتوار کے روز ہسپانوی پولیس اور فوج نے سبتہ کی سڑکوں پر گشت کیا، کیونکہ صورتحال بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اندازاً ساٹھ ہزار افراد نے اس انکلیو کا رخ کیا تھا جن میں سے بیشتر افراد نے رضاکارانہ طور پر اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر مراکش واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، اب بھی کچھ چھوٹے گروہ اور نابالغ تارکینِ وطن شہر کے مختلف حصوں میں دیکھے گئے جو مین لینڈ اسپین جانے کی خواہش مند ہیں۔ سول گارڈ اور ریسکیو یونٹس نے سمندری حدود میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور بارڈر کے قریب پانچ سو میٹر طویل فلوٹنگ بوم نصب کر دیا گیا ہے تاکہ مزید غیر قانونیداخلے روکے جا سکیں۔
اس بحران نے یورپی یونین کے اندر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ یورپی یونین کے بائیس رکن ممالک نے ایک مشترکہ خط کے ذریعے اس صورتحال پر فوری اور مربوط ردعمل دینے کے لیے منگل کے روز ایک ویڈیو کال اجلاس طلب کیا ہے۔ دوسری جانب، اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کو ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے، جس پر ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی ممالک کے خود غرضانہ رویے پر کڑی تنقید کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ افواہیں سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی تھیں کہ سپریم کورٹ کے حکم پر سرحدیں کھول دی گئی ہیں، جس سے یہ بحران شدت اختیار کر گیا۔ دریں اثنا، پوپ نے بھی سبتہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن اور انصاف کے حصول کے لیے دعا کی ہے۔