LIVE
Loading Breaking News...

نرمل پارجہ کی موت پر نیپال کے اسکول میں سوگ، افسوسناک خبر

News Image
نامور کوہ پیما نرمل پارجہ کی پاکستان میں براڈ پیک پر ہلاکت کے بعد ان کے آبائی ملک نیپال کے اسکول میں شدید غم و سوگ کا ماحول ہے۔ اسکول کے دوستوں اور اساتذہ نے ان کے ساتھ گزرائے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
عالمی شہرت یافتہ برطانوی نیپالی کوہ پیما نرمل پارجہ کی لاش ملنے کے بعد اتوار کے روز نیپال کے اسکول میں شدید غم و غصے اور سوگ کی لہر دوڑ گئی جہاں انہوں نے پہلی بار اپنی اس صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا جو انہیں عالمی سطح پر مشہور کرنے کا باعث بنی۔ چتوان ضلع کے 'سمال ہیون اسکول' میں دوستوں، اساتذہ اور طلباء نے 43 سالہ کوہ پیما کی پھولوں سے سجی ہوئی مسکراتی تصویر کے گرد جمع ہو کر موم بتیاں روشن کیں اور ان کے ساتھ گزارے گئے ایام کو یاد کیا۔ نرمل پارجہ پاکستان کی خطرناک چوٹی براڈ پیک پر جمعرات کے روز پیش آنے والے ایک ہولناک برفانی تودے کی زد میں آ کر دیگر نو کوہ پیماؤں کے ہمراہ جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان کی المناک موت پر دنیا بھر سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور برطانیہ کے پرنس ولیم سمیت کئی اہم شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ نرمل پارجہ نے نیپال کے جنوبی علاقوں کے اس بورڈنگ اسکول میں آٹھ سال تک تعلیم حاصل کی تھی، جہاں سے انہوں نے برطانوی گورکھا رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں دنیا بھر میں کوہ پیمائی کے میدان میں بے مثال نام کمانا۔ اسکول کے زمانے کے دوست دھیراج بہادر پانت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے لاپتہ ہونے کے دوران وہ اور ان کے ساتھی مسلسل دعائیں کرتے رہے اور راتیں جاگ کر گزاریں۔ اسکول کے ہاسٹل میں پارجہ کی نگرانی کرنے والے شیلندر بارال نے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی نہایت بہادر، ایماندار اور فرمانبردار طالب علم تھے۔ انہوں نے 2019 میں محض چھ ماہ سے کچھ زائد عرصے میں دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیوں کو سر کر کے پرانا ریکارڈ توڑا تھا اور دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ ان کے اس شاندار کارنامے پر نیٹ فلکس نے ایک دستاویزی فلم بھی بنائی تھی جس نے نیپال کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ اسکول کے طلباء کے لیے نرمل پارجہ کی یہ کامیابیاں ایک فخر کی علامت تھیں اور ان کی ناگہانی موت نے پورے علاقے اور تعلیمی ادارے کو سوگوار کر دیا ہے۔