World
ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی اور متضاد بیانات کا تجزیہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحانہ فوجی دھمکیاں دینے اور پھر فوری طور پر اپنے الفاظ واپس لینے کا ایک طویل سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران ان کے بیانات میں بار بار ڈرامائی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران اور حالیہ تنازعات میں ایران کے خلاف جدید امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ جارحانہ عوامی دھمکیاں دی ہیں، تاہم انہوں نے ان میں سے کئی بیانات سے پیچھے ہٹتے ہوئے یو ٹرن بھی لیے ہیں۔ 28 فروری کو تنازع شروع ہونے کے بعد سے ایران کے خلاف ان کے بیانات تیزی سے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ وہ بار بار فتح کا اعلان کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ وقتاً فوقتاً تہران کو مزید حملوں کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔ جون کے وسط میں انہوں نے ایران کی نئی قیادت کی تعریف کی لیکن جلد ہی اپنے موقف میں سختی لاتے ہوئے شدید غصے کا اظہار کیا۔ مارچ کے مہینے میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے مقررہ وقت میں آبنائے نہیں کھولی تو امریکہ اس کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دے گا۔ تاہم محض دو دن بعد انہوں نے ایران کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے اس ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی اور حملے کو موخر کر دیا۔ اس کے بعد بھی اپریل اور جون کے مختلف مواقع پر ایسا ہی دیکھنے میں آیا جب انہوں نے انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے حملے کے احکامات دیے اور محض چند گھنٹوں کے اندر سفارتی پیشرفت یا ثالثی کی بنیاد پر ان حملوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے پاکستان کے رہنماؤں سے بات چیت اور ثالثوں کی تجویز پر ایران پر بمباری دو ہفتے کے لیے معطل کرنے کی بھی حامی بھری۔ جون میں جنگ ختم کرنے کے لیے ایک عبوری معاہدے پر دستخط بھی ہوئے لیکن ایک ماہ کے اندر ہی لڑائی پھر سے شدت اختیار کر گئی۔ جولائی کے آخر میں ٹرمپ نے کابینہ کے اجلاس میں ایک بار پھر سخت حملوں کا عندیہ دیا جبکہ اگست کے آغاز میں دعویٰ کیا کہ ایران اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک نے انہیں حملے روکنے کی درخواست کی ہے، اگرچہ ایران نے اس دعویٰ کی سختی سے تردید کی۔