LIVE
Loading Breaking News...

سیم ألٹمین کو چیٹ جی پی ٹی کے متنازعہ مشورے پر تنقید کا سامنا

News Image
اوپن اے آئی کے سربراہ سیم ألٹمین کو والدین اور بچوں کے تعلقات سے متعلق مصنوعی ذہانت کے استعمال کا مشورہ دینے پر سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صارفین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے مشورے ڈیجیٹل دور میں خاندانی اقدار اور انسانی جذبات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا کی معروف ترین شخصیت اور اوپن اے آئی (OpenAI) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم ألٹمین کو حال ہی میں سوشل میڈیا پر اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے والدین کے لیے چیٹ جی پی ٹی کے ایک مبینہ استعمال کی تجویز پیش کی۔ سیم ألٹمین کے اس نظریے کو عام لوگوں اور والدین کی اکثریت کی جانب سے سخت ناپسند کیا گیا ہے، کیونکہ ان کا اندازِ فکر عام انسانوں کی سوچ سے کافی مختلف دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا سائیٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ان کے بائیو اور خیالات نے ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ اس تنازعے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیم ألٹمین نے بچوں کی پرورش اور والدین کے معاملات میں مصنوعی ذہانت کے مبینہ کردار کو بڑھا چढ़ा کر پیش کیا یا کوئی ایسا نکتہ اٹھایا جو خاندانی اور جذباتی تعلقات کے زمرے میں مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی تربیت اور والدین کے ساتھ ان کا رشتہ خالصتاً انسانی جذباتی وابستگی اور باہمی رابطے کا محتاج ہوتا ہے، جس میں کسی بھی قسم کی مشین یا مصنوعی ذہانت کا عمل دخل نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈیجیٹل ماہرین اور ماہرینِ نفسیات کا بھی یہی ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، وہ والدین اور بچوں کے مابین شفقت، تربیت اور جذباتی سکون کا متبادل ہرگز نہیں بن سکتی۔ سیم ألٹمین کی جانب سے اس قسم کے خیالات کے اظہار کے بعد انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اے آئی کمپنیاں اب انسانی زندگی کے ہر حساس شعبے پر بھی قبضہ کرنا چاہتی ہیں؟