LIVE
Loading Breaking News...

سوشل میڈیا پر اخلاقی زوال اور کچی خستی کا رجحان

News Image
آج کی نوجوان نسل ٹیکنالوجی کا استعمال جارحانہ زبان اور ناشائستہ مواد کی ترویج کے لیے کر رہی ہے۔ ماضی کے مقابلے میں جدید ڈیجیٹل ذرائع نے اس قسم کے مواد کو چند لمحوں میں دنیا بھر میں پھیلانے کی صلاحیت فراہم کر دی ہے۔
آج کے دور میں جنریشن زی (Gen Z) ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنا چکی ہے۔ تاہم، اس جدید ٹیکنالوجی کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ اسے بڑی تیزی سے جارحانہ زبان، ناشائستہ بصری مواد اور توہین آمیز رویوں کی ترویج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماضی پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تلخ کلامی اور سخت الفاظ کا استعمال ہمیشہ سے کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے، لیکن پرانی نسلوں کے پاس ایسے ذرائع یا پلیٹ فارمز نہیں تھے جن کی مدد سے وہ اس قسم के مواد کو بڑے پیمانے پر نشر کر سکیں۔ موجودہ دور میں اسمارٹ فونز، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس نے ہر فرد کو ایک طاقتور براڈاسٹر بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زبان کی تلخی اور اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے والے رجحانات اب سیکنڈوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتے ہیں، جس سے معاشرتی اقدار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اور سماجی امور کے ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں گمنامی اور فوری پذیرائی کی ہوس نے نوجوانوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ ان کے الفاظ اور ویڈیوز معاشرے پر کتنے گہرے اور منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اس رحجان کو روکنے کے لیے نہ صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی سخت مانیٹرنگ کی ضرورت ہے بلکہ تعلیمی اداروں اور گھروں میں اخلاقی تربیت کے عمل کو بھی مزید مؤثر بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ٹیکنالوجی کا استعمال مثبت مقاصد کے لیے کیا جا سکے نہ کہ معاشرتی بگاڑ کے لیے۔