Technology
تَق فلو کا وسطی ایشیا میں فوری اور کم فیس ادائیگیوں کے نظام کا آغاز
ناراضگی اور تاخیر سے دوچار روایتی بینکنگ نظام کو تبدیل کرنے کے لیے فِن ٹیک کمپنی تَق فلو نے بلاک چین اور ڈیڈییکیٹڈ کنٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک کا امتزاج متعارف کرا دیا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی وسطی ایشیا میں چند سیکنڈوں میں کم فیس کے ساتھ فوری سرحد پار رقوم کی منتقلی کو ممکن بنائے گی۔
دبئی، متحدہ عرب امارات - فِن ٹیک کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر تَق فلو (TaqFlow) نامی ادارے نے وسطی ایشیا میں سرحد پار ادائیگیوں کے پرانے اور پیچیدہ نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ روایتی بینکنگ چینلز میں رقوم کی منتقلی کے لیے اکثر اڑتالیس گھنٹے تک کا طویل وقت درکار ہوتا ہے، جس سے کاروباری اداروں اور عام صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے تَق فلو نے بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیڈییکیٹڈ کنٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک (CDN) کو یکجا کرتے ہوئے ایک ایسا جدید نظام تیار کیا ہے جو سیکنڈوں میں رقوم کی منتقلی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نئے نظام کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا انتہائی کم فیس کے ساتھ فوری ٹرانزیکشن فراہم کرنا ہے۔ وسطی ایشیا اور اس کے گردونواح کے خطے میں مالیاتی انفراسٹرکچر کو جدید خط استوار کرنے کے لیے یہ ٹیکنالوجی ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ تَق فلو کے بانیوں کا کہنا ہے کہ روایتی بینکاری کے نظام میں شفافیت کی کمی اور زیادہ لاگت ہمیشہ سے کاروبار کے فروغ میں بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔ اس نئی فِن ٹیک اختراع سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو بھی زبردست فروغ ملے گا کیونکہ تاجر اب بغیر کسی تاخیر کے سرحد پار ادائیگیاں کر سکیں گے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کو فنانس کے شعبے میں اس انداز سے لاگو کرنا خطے کی معیشت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ اس ڈیجیٹل حل کی بدولت وسطی ایشیا کے ممالک میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے اور مالیاتی لین دین میں سکیورٹی کے معاملات بھی مزید بہتر ہوں گے۔ تَق فلو اس وقت دبئی سے اپنے امور کا آغاز کر رہا ہے لیکن اس کا بنیادی ہدف وسطی ایشیا کی مارکیٹ ہے جہاں پرانے بینکنگ نظام کو اپ ڈیٹ کرنے کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
اس نئے فِن ٹیک پلیٹ فارم کے ذریعے کارپوریٹ سیکٹر اور چھوٹے تاجروں کو یکساں طور پر فائدہ پہنچے گا۔ تَق فلو کی ٹیم کو امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید مالیاتی ادارے اس جدید نیٹ ورک سے استفادہ کریں گے، جس سے پورے خطے میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا ایک نیا معیار قائم ہوگا۔ یہ اقدام آنے والے وقت میں دنیا بھر کے دیگر خطوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے جہاں سرحد پار ادائیگیوں کے مسائل تاحال برقرار ہیں۔