AI
سیلز میں اے آئی کا کردار: رفتار میں اضافہ لیکن نتائج بہتر نہیں
مصنوعی ذہانت نے انٹرپرائز سیلز میں آؤٹ باؤنڈ حجم کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے اور فی ٹچ لاگت کو کم کر دیا ہے۔ تاہم، اس کے باوجود سیلز جیتنے کی شرح اب بھی منجمد یا فلیٹ ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت نے آج کے دور میں کاروباری دنیا کے ہر شعبے کی طرح سیلز کے شعبے میں بھی انقلاب برپا کر دیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار اور رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اے آئی ٹولز نے انٹرپرائز سیلز کے آؤٹ باؤنڈ حجم کو انتہائی تیزی سے بڑھا دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فی ٹچ لاگت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ کمپنیاں اب کم وقت میں زیادہ گاہکوں تک رسائی حاصل کر رہی ہیں، جس سے بظاہر سیلز کا عمل بہت زیادہ فعال اور تیز دکھائی دیتا ہے۔
تاہم، اس تمام تر تکنیکی ترقی اور رفتار کے باوجود ایک اہم چیلنج بدستور برقرار ہے، اور وہ یہ ہے کہ سیلز جیتنے کی شرح اب بھی فلیٹ یا غیر تبدیل شدہ ہے۔ کارل پنٹو، جو کہ پیجر ڈیوٹی (PagerDuty) کے سابق ریجنل انٹرپرائز سیلز ڈائریکٹر ہیں، کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ زیادہ تر سیلز ٹیموں نے مصنوعی ذہانت کو بنیادی طور پر تھرو پٹ یا رفتار کی سطح پر لاگو کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی کا استعمال صرف زیادہ ای میلز بھیجنے اور پیغامات کی تکرار کے لیے کیا جا رہا ہے، نہ کہ گاہکوں کے ساتھ حقیقی اور گہرے تعلقات استوار کرنے کے لیے۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ جب تک کمپنیاں اے آئی کو محض ایک تیز رفتار مشین کے طور پر استعمال کرتی رہیں گی، اس وقت تک نتائج میں کوئی انقلابی بہتری آنے کی امید کم ہے۔ سیلز کے روایتی طریقوں میں انسانی عنصر کی جو اہمیت ہوتی ہے، مصنوعی ذہانت فی الحال اس کا نعم البدل بننے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ زیادہ حجم میں پیغامات بھیجنے سے کوالٹی متاثر ہوتی ہے اور گاہک اس قسم کے خودکار پیغامات سے جلد بیزار ہو جاتے ہیں۔
نتیجتاً، کاروباری اداروں کو اب اپنی حکمت عملی پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں کامیابی اسی صورت میں ممکن ہو گی جب سیلز ٹیمیں اے آئی کو صرف رفتار بڑھانے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اسے کسٹمر کی حقیقی ضروریات کو سمجھنے اور بہتر حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے استعمال کریں۔ کارکردگی اور رفتار کے ساتھ ساتھ معیار پر توجہ دینا ہی اصل کامیابی کی کنجی ثابت ہو سکتا ہے۔