LIVE
Loading Breaking News...

ہنگری میں خشک سالی سے ایٹمی پلانٹ بند، توانائی کا بحران

News Image
ہنگری میں شدید خشک سالی اور دریاؤں کا پانی کم ہونے کی وجہ سے ملک کے واحد ایٹمی پاور پلانٹ کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دن توانائی کے بحران کے حوالے سے انتہائی نازک ہوں گے۔
ہنگری میں جاری شدید خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث ملک کے واحد ایٹمی پاور پلانٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دریائے ڈینیوب اور دیگر آبی ذخائر میں پانی کی سطح انتہائی کم ہونے کی وجہ سے کولنگ کے نظام کو چلانا ناممکن ہو گیا ہے، جس کے بعد حکومت کو یہ ہنگامی قدم اٹھانا پڑا۔ اس صورتحال نے ملک بھر میں بجلی کی پیداوار کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور انتظامیہ کو توانائی کی بچت کے لیے سخت اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہنگری کے وزیراعظم نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آنے والے چند دن توانائی کے شعبے کے لیے انتہائی اہم اور نازک ثابت ہوں گے۔ انہوں نے عوام اور صنعتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بجلی کا استعمال کم سے کم کریں تاکہ قومی گرڈ پر دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ حکومت نے پہلے ہی دارالحکومت بوداپست میں ٹراموں اور سب وے کی رفتار اور فریکوئنسی میں کمی کر دی ہے تاکہ بجلی کی کھپت کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ دوسری جانب، یورپ کے دیگر حصوں میں بھی دریاؤں کے سکڑنے کی وجہ سے بجلی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور کمپنیوں کے منافع جات میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ رومانیہ نے بھی چرنا ووڈا یونٹ ٹو کو چلانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ خطے میں بجلی کے بڑے تعطل سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی اور خشک سالی کا یہ سلسلہ بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔